وہ عورت جس نے چاندنی چوک بسایا: جہاں آرا بیگم
جہاں آرا کی پوری زندگی میں ان کے والد شاہ جہاں نے انہیں اپنی دیگر اولاد پر فوقیت دی ایسی عنایت بعض اوقات تباہ کن ثابت ہو سکتی تھی۔ مگر یہاں معاملہ مختلف تھا۔ یہی التفات جہاں آرا کی شخصیت کو نکھارنے کا سبب بنا، اور وہ مغل سلطنت کی بااثر ترین خواتین میں شمار ہونے لگیں یہاں تک کہ پرانی دہلی کی معمار کہلائیں۔
برسوں میں جہاں آرا کی تربیت ستی النسا خانم کے سپرد کی گئی، جو جہانگیر کے دربار کے ملک الشعراء طالب آملی کی بہن تھیں۔ ستی النسا نہ صرف قرآن اور فارسی ادب پر عبور رکھتی تھیں بلکہ امورِ خانہ داری، طب اور آدابِ معاشرت میں بھی یکتا تھیں۔ یوں وہ شاہی بیٹی کی بہترینااطالق ثابت ہوئیں۔
مغل دربار میں شہزادیوں کو ہمہ جہت تعلیم دینا روایت کا حصہ تھاادب و مصوری سے لے کر چوگان، شطرنج اور شکار تک۔ شاہی خواتین کو کتب خانے (اکبر کے آگرہ قلعہ میں قائم کتاب خانہ) تک مکمل رسائی حاصل تھی، جہاں مذہب، فلکیات، قواعد اور زبانوں پر مبنی بے شمار کتب موجود تھیں، جو فارسی، ترکی اور مختلف ہندوستانی زبانوں میں تحریر کی گئی تھیں۔
اسی علم پرور اور کشادہ ماحول میں جہاں آرا کی ذہانت اور تخلیقی صلاحیتیں پروان چڑھیں، اور وہ محض ایک شہزادی نہیں بلکہ ایک باوقار، باادراک اور بااثر شخصیت کے طور پر ابھرنے لگیں۔
فروری 1628 میں، بالآخر شاہ جہاں تخت نشین ہوئے اور اپنی محبوب بیٹی کو ایک بے مثال عطیہ عطا کیاایک لاکھ اشرفیاں اور چار لاکھ روپے، نیز سالانہ چھ لاکھ روپے کی آمدنی، جس کا نصف نقد اور نصف جاگیر کی صورت میں تھا۔
مگر جون 1631 میں قسمت نے کروٹ بدلی۔ ممتاز محل اپنے چودھویں بچے کی پیدائش کے دوران پیچیدگیوں کے باعث انتقال کر گئیں، اور شاہی محل گہرے سوگ میں ڈوب گیا۔ سترہ برس کی نوخیز جہاں آرا پر اچانک ذمہ داریوں کا ایک پہاڑ آن پڑا۔ بڑی بیٹی ہونے کے ناتے، اسے غم منانے کی مہلت بھی نہ ملی۔ ایک طرف اسے اپنے کمسن بہن بھائیوں—یہاں تک کہ نوزائیدہ بچیکی نگہداشت کرنی تھی، تو دوسری جانب اپنے غم سے نڈھال باپ کو سنبھالنا تھا، جو درباری زندگی سے گویا کنارہ کش ہو چکے تھے۔
اگرچہ حرم میں دیگر بزرگ خواتین موجود تھیں، مگر جہاں آرا ہی وہ شخصیت تھیں جنہوں نے سلطنت کی پہلی خاتون کا منصب سنبھالا۔ شاہ جہاں نے ممتاز محل کی وسیع جائیداد کو اولاد میں تقسیم کیا اور جہاں آرا کو اس کا نصف، یعنی ایک کروڑ میں سے پچاس لاکھ روپے، اور شاہی مہر عطا کی۔ ان کا وظیفہ چھ لاکھ سے بڑھا کر دس لاکھ کر دیا گیا، اور وہ پہلی مغل شہزادی بنیں جنہیں ‘پادشاہ بیگم’ کا خطاب دیا گیا—یہ اعزاز عموماً کسی بادشاہ کی زوجہ یا والدہ کو حاصل ہوتا تھا۔ مزید برآں، شاہ جہاں نے انہیں ‘صاحبت الزمانی’ (عہد کی خاتون) کا لقب بھی دیا، جو سلطنت میں ان کے بے مثال مقام کی توثیق تھا۔ مغل ہندوستان میں یہ ایک نہایت غیر معمولی بات تھی؛ شاہی خواتین بااثر ضرور ہوتی تھیں، مگر اس نوع کے سرکاری القابات بہت کم کو نصیب ہوتے تھے۔
ذرا تصور کیجیےسترہ برس کی عمر، اور ایک صبح آنکھ کھلے تو معلوم ہو کہ اب آپ کو نہ صرف ایک وسیع حرم (جس میں سینکڑوں خواتین شامل ہوتی تھیں) کا نظم و نسق سنبھالنا ہے بلکہ درباری سیاست کی پیچیدہ راہوں میں بھی قدم رکھنا ہے۔ جہاں آرا نے یہ سب نہایت سرعت سے سیکھا، خصوصاً مفاہمت اور معاملہ فہمی کے اُس نازک ہنر کو، جو محل میں امن و سکون برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر تھا۔ بڑی بہن ہونے کے باعث، ان کے کئی بہن بھائی انہیں ماں کا درجہ دینے لگے تھے۔
اسی سال کے اختتام تک، جہاں آرا نہ صرف اپنے والد کو سوگ کی کیفیت سے باہر لانے میں کامیاب ہوئیں بلکہ اپنے بھائی دارا شکوہ کی شاندار شادی کا انتظام بھی کیا۔ یوں انہوں نے خاموشی سے ایک نازک دور میں مغل سلطنت کی باگ ڈور سنبھالے رکھی۔
مگر یہ ان کی داستان کا اختتام نہ تھابلکہ یہ تو ایک عظیم خواب کی ابتدا تھی۔ جہاں آرا کے ذہن میں سلطنت کے دارالحکومت کے لیے ایک شان دار تصور پروان چڑھ رہا تھا۔
اور میںاسی لمحےان کے ایک شاہکار کی دہلیز پر کھڑی تھی۔
چاندنی چوک کی تشکیل
1650 میں جہاں آرا بیگم کے حکم پر تعمیر ہونے والی یہ عمارت، جسے آج ٹاؤن ہال کے نام سے جانا جاتا ہے، ابتدا میں ‘بیگم کی سرائے’ کہلاتی تھی۔ یہ حقیقت کہ شاہ جہاں خود اس سرائے کو دیکھنے آئے اور اپنی بیٹی کے کام کی نگرانی کی، اس کی اہمیت اور شاہی خاندان میں جہاں آرا کے بلند مقام دونوں کو نمایاں کرتی ہے۔
یہ دو منزلہ سرائے تقریباً 1,674 مربع فٹ پر پھیلی ہوئی تھی اور اس میں نوّے کمرے تھے، جن میں سے ہر ایک نفیس فریسکو نقاشی سے مزین تھا۔ چاندنی چوک کی جانب سے داخل ہونے پر ایک کشادہ صحن استقبال کرتا، جس میں ایک بڑا حوض، سرسبزہ اور پانی کی باریک نہریں شامل تھیں۔ ایک گوشے میں مسجد قائم تھی، جبکہ بالائی منزل کی بالکونی سے چاندنی چوک کا شاندار منظر دکھائی دیتا تھا۔
نچلی منزل پر محرابی برآمدوں کے ساتھ دکانیں تھیں، جہاں برتن، کھلونے، چوڑیاں اور کپڑے فروخت ہوتے تھے۔ عمارت کے دونوں جانب بلند برج تھے اور پوری عمارت سفید چونے کے پتھر کی چمک سے دمکتی تھی۔ اس کے دو داخلی دروازے تھےایک چاندنی چوک کی مرکزی شاہراہ کی طرف کھلتا تھا اور دوسرا ‘بیگم کا باغ’ نامی باغ کی طرف جاتا تھا۔ اس ڈیزائن کے لیے جہاں آرا نے ایران کے شہر اصفہان کی ایک سرائے سے اس کا خیال لیا
1658 میں مغل سلطنت کا دورہ کرنے والے فرانسیسی سیاح فرانسیس برنیئر نے اپنی تحریروں میں اس سرائے کی یوں تعریف کی
دہلی کی ایک اور عمارت جس کی طرف میں توجہ دلانا چاہوں گا، جسے ‘شہزادی کی کاروان سرائے’ کہا جاتا ہے، کیونکہ اسے شاہ جہاں کی بڑی بیٹی، مشہور بیگم صاحبہ نے تعمیر کروایا۔ نہ صرف اس شہزادی بلکہ وہ تمام امرا بھی، جو بوڑھے بادشاہ کی خوشنودی چاہتے تھے، اس نئے شہر کو اپنے خرچ پر آراستہ کرتے رہے۔ یہ کاروان سرائے ایک بڑے مربع کی شکل میں ہے، جس کے گرد محرابی برآمدے ہیں، جیسے ہمارے ‘پلیس رائل’ میں ہوتے ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ ان محرابوں کے درمیان دیواریں ہیں اور اندرونی جانب چھوٹے کمرے بنے ہوئے ہیں۔ ان برآمدوں کے اوپر ایک گیلری ہے، جس کے گرد ویسے ہی کمرے ہیں جیسے نیچے ہیں۔ یہ جگہ امیر فارسی، ازبک اور دیگر غیر ملکی تاجروں کی آماجگاہ ہے، جہاں انہیں خالی کمرے میسر آ جاتے ہیں اور وہ مکمل تحفظ کے ساتھ قیام کرتے ہیں، کیونکہ رات کو دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔ اگر پیرس میں بھی ایسی بیس عمارتیں مختلف حصوں میں ہوتیں تو نئے آنے والے مسافروں کو محفوظ اور مناسب قیام تلاش کرنے میں کم دقت پیش آتی”
درحقیقت، بیگم کی سرائے ایک عام مسافرخانہ نہیں تھی بلکہ ایک پُرتعیش اور منظم قیام گاہ تھی۔ سترہویں صدی کے اطالوی سیاح نکولو مانوچی نے بھی اس کی خوبصورتی کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا:
“یہ ہندوستان کی سب سے خوبصورت سرائے ہے، جس کے بالائی کمرے نہایت خوبصورت نقاشیوں سے آراستہ ہیں، اور اس میں ایک دلکش باغ ہے جس میں آرائشی حوض موجود ہیں۔ اس سرائے میں صرف مغل اور فارسی تاجر قیام کرتے ہیں۔ بادشاہ خود اپنی محبوب بیگم صاحبہ کے لیے کیے گئے اس کام کو دیکھنے آیا اور اس نے اس کی محنت اور فیاضی کی تعریف کی۔”
یوں بیگم کی سرائے محض ایک عمارت نہ تھی، بلکہ ایک ایسا مرکز تھی جہاں تجارت، ثقافت اور دنیا کے مختلف خطوں سے آنے والے لوگ ایک دوسرے سے ملتے تھے—اور یہی وہ تصور تھا جسے جہاں آرا نے چاندنی چوک کی صورت میں حقیقت بنا دیا۔
چاندنی چوک کی تاریخی جھلک
کارواں سرائے سے متصل، جہاں آرا بیگم نے شہر کے سب سے بڑے حماموں میں سے ایک تعمیر کروایا، جس کی پیمائش تقریباً 180 بائی 60 فٹ تھی۔ متعدد کمروں اور برآمدوں پر مشتمل یہ حمام دو بنیادی مقاصد کے لیے تھا: ایک تو سرائے میں مقیم مسافروں کو طہارت کی سہولت فراہم کرنا اور دوسرا، گلی کے آخری سرے پر واقع فتح پوری مسجد جانے والے زائرین کی مدد کرنا، جو روایت کے مطابق مسجد میں داخلے سے قبل وہاں وضو کرتے تھے۔
حمام کے پہلو میں ایک ہشت پہلو (آٹھ کونوں والا) حوض تھا، جو چاندنی راتوں میں یوں دمکتا تھا کہ پانی میں چاند کا عکس دیکھ کر ہی اس سڑک کا نام ‘چاندنی چوک’ مشہور ہوا۔ شاید آج کے دور میں اس کا تصور کرنا محال ہو، لیکن شاہجہاں آباد کا یہ حصہ کبھی دنیا کا درخشاں ترین سنگم تھا۔ بخارا کے دستار بند تاجر، یمن کے جوہر شناس اور ریشم و اطلس میں ملبوس عثمانی سفیر انہی محرابوں تلے ایک دوسرے کے پہلو سے گزرتے تھے۔ فضا عرقِ گلاب کی خوشبو سے بوجھل رہتی اور گلیوں میں فارسی، عربی، ازبک، فرانسیسی اور ہندوی زبانوں کا شور گونجتا۔ فوارے، تالاب اور نہریں اس شہر کی روح تھیں؛ آج کی تشنہ لب دہلی اپنے اس آب و تاب والے ماضی کو شاید ہی پہچان پائے۔
جیسا کہ انیسویں صدی کے نامور مؤرخ سر سید احمد خان رقم طراز ہیں:
چاندنی چوک (یعنی وہ چوک جو اپنی خوبصورتی کے باعث چاندنی راتوں میں بے حد دلکش نظر آتا ہے) اس پلیٹ فارم سے آگے واقع ہے جہاں کوتوالی چبوترا (پولیس اسٹیشن) قائم ہے۔ یہ 480 گز طویل بازار ہے، جس کے وسط میں 100 گز کا ایک چوک ہے اور اس میں ایک مربع حوض بنا ہوا ہے۔ درحقیقت اسی 100 گز کے چوک کو چاندنی چوک کہا جاتا ہے۔ اس کی رونق اور دلکشی بیان کرنا میری بساط سے باہر ہے۔ یہاں کی شامیں سحر انگیز ہوتی ہیں، جہاں شہزادے، امرا اور نوجوان تفریح کی غرض سے مٹر گشتی کرتے نظر آتے ہیں۔ چوک کے دونوں اطراف نہایت عمدہ دکانیں سجی ہیں جہاں ہر قسم کا مال دستیاب ہے۔ دنیا کی ایسی کوئی شے نہیں جو یہاں فروخت نہ ہوتی ہو۔
تاجر دور دراز کی مسافتیں طے کر کے اپنا مال چاندنی چوک لاتے تھے۔ ترکی، زنجبار، شام، یمن، عرب، عراق، خراسان، چین اور تبت کے سوداگر یورپی ممالک جیسے انگلستان اور ہالینڈ کے تاجروں کے ساتھ شانہ بشانہ دکانیں لگاتے تھے۔ ان کے نفیس مال نے اس بازار کو عجائب گھر بنا دیا تھا: بدخشاں کے لعل عمان کے موتیوں کے ساتھ چمکتے، اور کشمیر و وسطی ایشیا کے تازہ پھل رنگوں کی بہار دکھاتے۔ اسلحہ، عمدہ پارچہ جات، خوشبوئیں، ہاتھی، گھوڑے، اونٹ، نایاب پرندے، حقے اور لذیذ مٹھائیاں فضا کو ایک انوکھے سحر سے بھر دیتیں۔ حتیٰ کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے کارندے بھی یہاں اپنے قالین، اونی کپڑے اور چوڑے عرض والا پارچہ (Broadcloth) لے کر امرا کی خدمت میں حاضر ہوتے۔ یہ گلیاں بھاؤ تاؤ کی صداؤں، مسالوں کی لیے مہک اور قصہ گویوں و رقاصوں کے رنگوں سے ہر دم زندہ رہتی تھیں۔ یہ بازار محض تجارت کا مرکز نہ تھا بلکہ زندگی اور توانائی کا گہوارہ تھا۔ لڑکے اور لڑکیاں دکانوں کے سامنے سے گزرنے والے ہجوم کی لے پر ناچتے تھے، اور ان کی حرکات خوشی سے بھرا ہوا دلکش منظر پیش کرتی تھیں۔ قصہ گو قالینوں پر آلتی پالتی مار کر بیٹھتے، رمضان کے روزوں اور مشقتوں کی کہانیاں سناتے یا محرم میں حسین ابن علی کی دردناک داستان بیان کرتے، اور ان کی آوازیں سننے والوں کو دور دراز جہانوں میں لے جاتی تھیں۔
دکانیں چھوٹی چھوٹی اور نہایت سلیقے سے بنی ہوئی تھیں جو برآمدوں کے نیچے قائم تھیں۔ باریک دیواریں ایک دکان کو دوسری سے جدا کرتی تھیں، اور ہر دکان کے پیچھے ایک دروازہ ایک مختصر گودام کی طرف کھلتا تھا جہاں تاجر اپنا زائد مال رکھتے تھے۔ ان گوداموں کے اوپر دکاندار اپنے اہل خانہ اور نوکروں کے ساتھ سادہ کمروں میں رہتے تھے، یوں تجارت اور گھریلو زندگی ایک ساتھ جڑی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔
چاندنی چوک کے قہوہ خانے، جو پورے شہر میں پھیلے ہوئے تھے، محض قہوہ پینے کی جگہیں نہیں تھے بلکہ فکری تبادلے، تہذیبی میل جول اور شعری اظہار کے زندہ مراکز تھے چاندنی کی گہماگہمی والی گلیوں میں یہ قہوہ خانے خوشبودار قہوہ پیش کرتے تھے ایک گاڑھی اور مصالحے دار کافی جس میں الائچی کی خوشبو رچی بسی ہوتی تھی۔
ان قہوہ خانوں کا گرم اور دلکش ماحول انہیں علما، شعرا، تاجروں اور امرا کے لیے ایک پسندیدہ جگہ بنا دیتا تھا۔ اندر علمی بحثوں کی گونج رہتی تھی۔ علما فلسفہ، اخلاق اور سیاست پر گفتگو کرتے، جبکہ شعرا اپنی تازہ غزلیں سناتے اور اپنے ہم عصروں سے رائے لیتے تھے۔ دیواروں پر فارسی اور اردو شاعری کے خطاطی شدہ اشعار آویزاں ہوتے تھے جو ماحول کو مزید خوبصورت بنا دیتے تھے۔
یہ قہوہ خانے غیر رسمی درس گاہوں کا کام دیتے تھے، جہاں خیالات اسی طرح رواں ہوتے تھے جیسے قہوہ، اور یوں شہر کی فکری اور تہذیبی زندگی کی تشکیل ہوتی تھی۔ ان قہوہ خانوں کے گاہک بھی چاندنی چوک کی گلیوں کی طرح مختلف ہوتے تھے۔ تاجر اپنے لین دین کے درمیان رُک کر دور دراز علاقوں کی خبریں سناتے، جبکہ مسافر اپنے سفر کے واقعات بیان کرتے تھے۔ درباری اور امرا بھی کبھی کبھار یہاں آتے، دلکش گفتگو کے سحر میں کھنچے ہوئے۔
کئی شاموں میں موسیقار بھی آ جاتے، ستار کی مدھر دھنیں اور طبلے کی تھاپ فضا میں گھل جاتی، اور ایسا ماحول بن جاتا جہاں عام اور روحانی کے درمیان فرق مٹ جاتا تھا۔ شعرا کے لیے یہ قہوہ خانے خاص اہمیت رکھتے تھے۔ یہیں وہ اپنے اشعار ایک ایسے مجمع کے سامنے سناتے جو ایک طرف تنقیدی ہوتا اور دوسری طرف قدر دان۔
اکثر یہ نشستیں اچانک مشاعروں میں بدل جاتیں، جہاں میر تقی میر، مرزا رفیع سودا یا مرزا غالب جیسے عظیم شعرا کی تخلیقی چمک راتوں کو روشن کر دیتی تھی۔ ان محفلوں کی گفتگو اور مباحثے نے اردو اور فارسی ادب کے بڑے بڑے شاہکاروں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔
جہان آرا نے مغل افسر علی وردی خان کے ساتھ، جو نکاسی آب اور آب پاشی کا نظام سنبھالتا تھا، مل کر دریائے جمنا کو شہر کے مرکز تک لانے کا انتظام کیا۔ یہ آبی راستہ، جو “فیض نہر” یا “فتح مند نہر” کہلاتا تھا، شاہجہان آباد کی تیرہ فصیل دار دیواروں میں سے ایک، کابلی دروازے سے داخل ہوتا تھا۔¹² وہاں سے یہ چاندنی چوک سے گزرتا ہوا ایک چمکتا ہوا نالہ بن جاتا تھا جو رات کے وقت چاندنی کو اپنی لہروں میں منعکس کرتا تھا، اور یوں اس گلی کو اس کا شاعرانہ نام ملا۔ سرسبز درختوں سے گھری یہ نہر ہوا کو ٹھنڈا رکھتی اور بازار کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی تھی، اور آخرکار فتےپوری مسجد کے قریب ایک تالاب پر جا کر ختم ہوتی تھی، جو ایک نہایت نفیس آب پاشی کے نظام کا حصہ تھا۔
تقریباً ایک ہزار پانچ سو بیس گز پر پھیلا ہوا اور ایک ہزار پانچ سو ساٹھ دکانوں پر مشتمل چاندنی چوک شہر کا زندہ دل تجارتی مرکز تھا۔یہ لال قلعہ کے لاهوری دروازے کو شہر کی فصیل کے لاهوری دروازے سے جوڑتا تھا، اور یوں شاہجہان آباد کے لیے ایک مرکزی محور کا کام دیتا تھا، جیسے آج کے نئی دہلی میں راج پتھ۔ چاندنی چوک مختلف بازاروں میں تقسیم تھا، جن میں ہر ایک مخصوص اشیا کی تجارت کے لیے مشہور تھا۔
افسوس کہ حمام، آٹھ پہلوؤں والا تالاب، آبی نہر اور سرائے سب ختم ہو چکے ہیں۔ وہ تالاب جس کی لہروں میں کبھی چاندنی جھلملاتی تھی، 1857 کے بعد انگریزوں نے اسے سیمنٹ سے ڈھک دیا۔ حمام جسےاینٹ اینٹ کر کے توڑ دیا گیا، کیونکہ انگریز مغلوں کی ہر زندہ یاد کو مٹانا چاہتے تھے۔ سرائے، جو کبھی مسافروں کا آرام گاہ تھی، اسے بھی ہٹا کر دوبارہ بنایا گیا۔ دہلی نے صرف عمارتیں نہیں کھوئیں—اس نے پانی کی چھل چھل، ریشمی لباسوں کی گردش، گلاب کے پانی کی خوشبو، اور اس عالمی شہر میں تاجروں اور مسافروں کے روزمرہ تماشے سب کھو دیے۔
جو کچھ باقی ہے وہ صرف ایک سایہ ہے—لیکن شاہجہان آباد کی ان پرانی گلیوں میں ہمارا سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔ ان راستوں میں ابھی بھی کچھ جادو باقی ہے۔
نوٹ یہ مضمون Anoushka Jain کی کتاب Badass Begums سے ترجمہ کیا گیا ہے